گندم کی چار روٹیاں
پہلے حلال کا سوچتا ہوں کہ بل ادا کریں گے۔
کھانے کے درمیان سوچتا ہوں کہ کھانا کھا کر بھاگ جاتے ہیں پھر عین اسہی وقت سالن تو ہوتا ہے لیکن صرف دکھاوے کے طور پر جب جب نوالا سالن میں ڈالتا تو صرف شوربہ ہوتا اسہی طرے ڈبل گریبی تک یہی واقعہ رہا
یعنی نوالہ توڑا جائے اور جب سالن کو روٹی پر لگائوں تو سالن غائب۔
پھر دل میں ارادہ کرتے ہیں کہ حلال ہی کھا لو بل پے کریں گے۔
اور صرف ارادے پر ہی سالن اچھا خاصہ ہوجاتا ہے۔
کھانے کے دوران اچانک بلی کا حملہ ہوتا ہے اور یوں آدھی روٹی مجھ سے نیچے گر جاتی ہے اور وہ کبھی ہاتھ میں نہی آئے گی۔ ایسا احساس دلاتی ہے نہ ہی میرے ہاتھ روٹی آئی اور نہ ہی بلی کے پنجوں میں جبکہ مینے اسکے پنجے بھی بخوبی کھول کر چیک کئے لیکن روٹی بہت نیچے چلی جاتی ہے جسکے پیچھے کبھی واپس جانے کا خیال تک نہی ہوا۔ اسکے بعد کھانا خوب سیر ہو کر کھایا اور وہیں آرام بھی کیا۔
جگہ نا معلوم لیکن سادہ ہوٹل جیسے ہو۔
وقت شام کا ہوگا یا صبح کا کیونکہ روشنی ہمیں آسمان سے مل رہی تھی کسی بلب کی جلانے کی ضرورت نہیں ہوئی۔
اسکے بعد میرا ساتھی وہیں لیٹ کر سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ آرام حاصل کر رہا تھا۔
تب ہی میں اچانک لیٹ جاتا ہوں اور یوں دس پندرہ منٹ کے بعد ایسا لگتا ہے ۔۔۔۔ میرا قریبی عزیز مجھے دیکھ کر ہنس رہا ہوتا ہے کہ میں کیا کر رہا تھا یعنی جیسے میری شرارت پکڑی گئی ہو اور وہ مجھے مذاق میں کہتا ہے کہ یہاں آئو تمہاری میں گردن دبا کے جان سے مار دوں
مزاق مزاق میں وہ میرے قریب آیا
اور یوں اسکے ہاتھ میری گردن پر زور دینے لگے
لیکن مجھے ایسا لگا کہ دنیا کا سارا مزہ تو اس موت میں ہے میں کلمہ پڑھنے شروع کردیتا ہوں اور ایک کے بعد ایک یہاں تک کہ تین کلمے شکر الحمد اللہ پورے پڑھتا ہوں
اور میری آنکھ کھلتی ہے کہ یہ کیا مینے دیکھا خواب بہت ہی عجیب تھا لیکن تھا مزے دار وہیں جاگ کر شکر الحمد اللہ کرتا ہوں کہ یا رب بس تونے مجھے خواب میں کلمہ نصیب کیا
مرتے وقت بھی ایسا سکون اور ایسے کلمہ حق نصیب فرمانا
آمین


Comments
Post a Comment